امریکی صدر جو بائیڈن نے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کورونا وائرس کے وبا کے دوران بعض ویزوں پر عائد پابندی کے حکم کو رد کردیا۔ امریکی صدر کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ امریکہ کے مفاد میں نہیں تھا ۔ اس کے برعکس یہ امریکی عوام کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا فیصلہ تھا ۔ اس سے امریکی شہریوں اور جائز مقامی رہائشیوں کو ان کے اہل خانہ سے ملنے میں دشواری ہوئی اور امریکی کاروبار کو نقصان پہنچا۔ (تصویر کریڈٹ : نیوز18 انگلش)
خیال رہے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جون 2020 میں یہ پابندی عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا سے پیدا ہونے والی بھاری بے روزگاری کے درمیان امریکی ملازمین کے مفادات کا تحفظ ضروری ہے۔ تاہم اب بائیڈن نے اس پابندی کو ختم کردیا ہے ۔(تصویر کریڈٹ : نیوز18 انگلش)
ان پابندیوں کے تحت غیر مہاجر ورک ویزوں کی کچھ اقسام کو امریکی معیشت کی بحالی کی کوششوں میں معطل کردیا گیا تھا۔ اس فہرست میں ہائی ٹیک صنعتوں میں کام کرنے کے لئے ایچ -1بی ویزا اور کم ہنر مند کارکنوں ، ٹرینیوں ، اساتذہ اور کمپنی کے لئے منتقلی کے ویزے شامل ہیں۔ (تصویر کریڈٹ : نیوز18 انگلش)
عہدہ سنبھالنے کے بعد سے جو بائیڈن نے متعدد پابندیوں کو کم کیا ہے ، جو ڈونالڈ ٹرمپ کی ’زیرو ٹالرینس‘ امیگریشن پالیسی کا حصہ تھے۔ (تصویر کریڈٹ : نیوز18 انگلش)