جاپان میں ہر سال ایک برہنہ پروگرام یعنی نیوڈ فیسٹیول ہوتا ہے۔ یہ فیسٹیول جاپان کے ہونشو جزیرے میں دو دن پہلے ہی ختم ہوا ہے۔ اس میں دنیا بھر سے لوگ پہنچتے ہیں۔ اسے جاپان میں لوگ ہداکا مستوری بھی کہتے ہیں۔ اس مرتبہ تو لگ رہا تھا کہ یہ فیسٹیول کورونا وائرس کے سبب رد ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اسے اس بات علامتی طور پر منعقد کیا گیا۔ گزشتہ بار اس فیسٹیول میں تقریبا 10,000 لوگوں کی بھیڑ آئی تھی جس میں ہر عمر کے لوگ تھے۔
جاپا کے جس ہونشو جزیرے پر یہ فیسٹیول ہوتا ہے وہ جزیرہ جاہان کا سب سے اہم اور بڑی آبادی والا جذیرہ ہے۔ یہ دنیا کا ساتواں بڑا جزیتہ بھی ہے۔ ایسا جزیرہ بھی جہاں انڈونیشیا کے بعد سب سے بڑی آبادی رہتی ہے۔
جمع ہوئی بھیڑ کا اندازہ آپ اس تصویر کے ذریعے لگا سکتے ہیں۔ اس میں جمع ہونے والے لوگ کم سے کم کپڑوں میں وہاں آتے ہیں جس مندر میں یہ فیسٹیول ہوتا ہے اس کو سیئیداری کونونن مندر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ فیسٹیول اچھی فصل اور خوشحالی کیلئے ہوتا ہے۔ لوگ یہاں اس لئے آتے ہیں کہ ان کو لگتا ہے کہ یہاں آنے سے ان کی قسمت اچھی رہے گی۔
یہ سبھی لوگ مندر کے چاروں طرف گھومتے ہیں اور پھر اس مندر کے برفیلی پانی کے ٹینک میں نہاتے ہیں۔ اس دوران ان کی ساری مستی دیکھنی بنتی ہے۔ اس کے بعد مندر میں اصلی پروگرام کی شروعات ہوتی ہے جو مندر کے صحن میں ہوتا ہے۔
مندر میں اوپر کی منزل سے پجاری اس بھیڑ کے اوپر پتوں کی ٹہنی پھیکتا ہے جسے جھپٹنے کیلئے ہوڑ لگ جاتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ چھینا جھپٹی اور دھکا ۔ مکی تب ہوتی ہے جب پجاری دو قسمت کی چھڑی پھینکتا ہے۔جسے بھی یہ چھڑی ملتی ہے مانا جاتا ہے کہ اس کا پورا سال بہت اچھا گزرتا ہے اور قسمت اس کے ساتھ ہوتی ہے۔
اس موقع پر پورا مندر آوازوں سے گونجتا رہتا ہے۔ یہ پوری تقریب صرف آدھے گھنٹے کی ہوتی ہے جس میں ہر کوئی موجود رہنا چاہتا ہے۔ حالانکہ جب لوگ اس فیسٹیول سے واپس لوٹتے ہیں تو ان کے جسم پر خروچ اور ہلکی۔پھلکی چوڑ بھی ہوتی ہے لیکن اس کی پرواہ کوئی نہیں کرتا ۔
جیسا کہ ہم اوپر ہی بتا چکے ہیں ہ اس بار اسے علامتی طور پر منعقد کیا گیا۔ کم لوگوں کو بلایا گیا۔ اس بار کی اس کی تصویریں یہ ہیں جس میں کافی کم بھیڑ ہے۔ امید ہے کہ اگلی بار جب یہ ہوگا تو پھر سے ہزاروں کی بھیڑ یہاں جمع ہوگی اور اس فیسٹیول کو انجوائے کرے گی۔