سپریم کورٹ نے لون موریٹوریم کی مدت بڑھانے سے کیا انکار ، کہا : پوری طرح سود معافی ممکن نہیں
SC on Loan Moratorium : سپریم کورٹ نے منگل کو لون موریٹوریم کیس میں فیصلہ سنادیا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ 31 اگست کے بعد موریٹوریم کی مدت نہیں بڑھائی جاسکتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی چھ مہینے کی مدت کے دوران کسی بھی قرض لینے والے سے لئے گئے سود پر کوئی سود نہیں ہوگا ۔
- News18 Urdu
- Last Updated: Mar 23, 2021 12:21 PM IST
سپریم کورٹ نے لون موریٹوریم کی مدت بڑھانے سے کیا انکار، کہا : پوری طرح سود معافی ممکن نہیں
سپریم کورٹ نے منگل کو لون موریٹوریم کیس میں فیصلہ سنادیا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ 31 اگست کے بعد موریٹوریم کی مدت نہیں بڑھائی جاسکتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی چھ مہینے کی مدت کے دوران کسی بھی قرض لینے والے سے لئے گئے سود پر کوئی سود نہیں ہوگا ۔ جسٹس اشوک بھوشن ، آر بھوشن ریڈی اور ایم آر شاہ کی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا ہے ۔ ایم آر شاہ نے کہا کہ موریٹوریم کی مدت کے دوران دو کروڑ روپے سے زیادہ کے سود پر سود کی معافی ممکن نہیں ہے ۔
علاوہ ازیں اگر کسی بینک نے سود پر سود لیا ہے تو اس کو لوٹانا ہوگا ، اس پر کسی طرح کی کوئی راحت نہیں ملے گی ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ بینک پوری طرح سے سود معاف نہیں کرسکتے کیونکہ وہ اکاونٹ ہولڈرس اور پینشنرس کیلئے جوابدہ ہیں ۔
عدالت نے کہا کہ سرکار کو اقتصادی فیصلے لینے کا اختیار ہے اور عدالت کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے ۔ وبا کی وجہ سے حکومت کو بھی بھاری مالی خسارہ ہوا ہے ۔ ہم سرکار کو پالیسی پر ہدایت نہیں دے سکتے ہیں ۔ حالانکہ ریزرو بینک آف انڈیا جلد ہی اس پر راحت کا اعلان کرے گا ۔
بتادیں کہ کورونا بحران کے دوران دی گئی ای ایم آئی ادائیگی سے چھوٹ کی وجہ سے چھ مہینوں کے دوران جن لوگوں نے لون کی قسط نہیں ادا کی ، انہیں ڈیفالٹر میں نہیں دالا گیا تھا ۔ حالانکہ بینک ان چھ مہینوں کے سود پر سود وصول رہے تھے ۔ بتادیں کہ آر بی آئی نے سب سے پہلے 27 مارچ 2020 کو لون موریٹوریم لاگوکیا تھا ۔ اس کے تحت یکم مارچ 2020 سے لے کر 31 مئی 2020 تک ای ایم آئی ادائیگی سے راحت دی گئی تھی ۔ حالانکہ بعد میں آر بی آئی نے اس کی مدت بڑھا کر 31 اگست 2020 تک کردی تھی ۔ آر بی آئی نے ستمبر 2020 میں سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرکے کہا تھا کہ لون موریٹوریم کو چھ مہینے سے زیادہ وقت کیلئے بڑھانے پر معیشت پر برا اثر ہوگا ۔
ریزرو بینک نے سبھی بینکوں کو ایک مرتبہ لون ری اسٹرکچر کرنے کی اجازت بھی دی ، وہ بھی قرض کو این پی اے میں ڈالے بغیر ۔ تاکہ کمپنیوں اور افراد کو کورونا کے دوران مالی پریشانیوں سے لڑنے میں مدد مل سکے ۔ اس لون ری اسٹرکچرنگ کیلئے صرف وہی کمپنیاں یا افراد اہل تھے ، جن کے اکاونٹ یکم مارچ 2020 تک 30 دن سے زیادہ ڈیفالٹ اسٹیٹس میں نہیں رہے ہوں ۔











