فٹ بال کریز کا کشمیری لڑکیوں کے لیے اہم اقدام، لونسٹار کشمیر ایف سی (Lonestar Kashmir FC) نے کیا آل گرلز کلب کا آغاز
ابھی چند برس قبل کشمیری لڑکیوں کے لئے فٹ بال سیکھنے اور کھیلنے کے لئے کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں تھا لیکن وادی کشمیر میں کچھ مثبت تبدیلی کے ساتھ نوجوان فٹ بالرز کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے نئے فٹ بال کلب کھولے جارہے ہیں۔
- News18 Urdu
- Last Updated: Apr 16, 2021 03:27 PM IST
فٹ بال کریز کا کشمیری لڑکیوں کے لیے اہم اقدام
کئی دہائیوں پرانی روایت کو توڑتے ہوئے کشمیری لڑکیاں اب فٹ بال کو کیریئر کے طور پر منتخب کرنے کے امکانات کی تلاش کر رہی ہیں۔ ابھی چند برس قبل کشمیری لڑکیوں کے لئے فٹ بال سیکھنے اور کھیلنے کے لئے کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں تھا لیکن وادی کشمیر میں کچھ مثبت تبدیلی کے ساتھ نوجوان فٹ بالرز کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے نئے فٹ بال کلب کھولے جارہے ہیں۔ کشمیر پہلی خاتون فٹ بال کوچ نادیہ نگہت (Nadia Nighat) کا کہنا ہے کہ ’’ابھی کچھ سال قبل کشمیر میں ایک لڑکی فٹ بال کھیلنا ایک ممنوع حرکت سمجھتی تھی لیکن اب چونکہ لڑکی کے بارے میں لوگوں کی ذہنیت بدل رہی ہے اور لڑکیوں کو ہر شعبے میں مساوی مواقع فراہم کیے جارہے ہیں۔ اسی لیے بہت سی لڑکیوں نے فٹ بال میں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں‘‘۔
حال ہی میں ایک مقامی فٹ بال کلب لونسٹار کشمیر ایف سی (Lonestar Kashmir FC) نے سری نگر میں آل گرلز فٹ بال کلب کا آغاز کیا۔ نادیہ نے کہا کہ ’’پہلے ان لڑکیوں کے لئے پلیٹ فارم نہیں تھے لیکن اب فٹ بال اکیڈمیوں کا مقصد صرف لڑکیوں کے لئے کلب شروع کیے جارہے ہیں، جو کشمیری لڑکیوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے اچھا اقدام ہے‘۔
بین الاقوامی کھلاڑیوں کی تیاری:
ایک نوجوان لڑکی نزہت (Nuzhat) جو لونیسٹار میں حال ہی میں داخلہ لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کشمیری لڑکیوں کو کسی بھی شعبے میں اپنی دہانت ثابت کرنے کے لیے آگے آنے کی ضرورت ہے۔ لیکن جو ہمارے پاس چھوٹ گیا وہ ایک مناسب پلیٹ فارم تھا، جو اب ہمیں فراہم کیا گیا ہے‘‘۔
ایک اور لڑکی فٹ بالر انشا مجید (Insha Majeed) نے کہا ہے کہ ’میں اپنے کیریئر کے طور پر فٹ بال کو آگے بڑھانا چاہتی ہوں لیکن اس کے لئے مجھے مناسب تربیت اور بہتر مظاہرہ کی ضرورت ہے۔ جو صرف اس صورت میں ممکن ہے۔ جب لڑکیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ ایسے کلب موجود ہوں‘۔














