KABUL: افغانستان (Afghanistan) کی راجدھانی کابل (KABUL) میں آسمان کے نیچے پرائمری اسکول چلایا جا رہا ہے۔ ملک میں اسکولی تعلیم کا منظر بیحد ہی دردناک ہے۔ تصویر: AP۔
پرنسپل فضل رحیم ک(Principal Fazel Rahim) ا کہنا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کے مشرق میں صرف اس کے اللہ گل مجاہد پرائمری اسکول (Allah Gul Mujahid primary school) میں کلاس ایک سے چھ تک کے تقریبا 1،700 طلباء کے پاس مناسب کلاس، پینے کا صاف پانی یا سینیٹری ٹوائلیٹ (sanitary restrooms) نہیں ہے۔
عالمی بینک (World Bank) نے کہا کہ افغانستان میں کل 36 ہزار اسکول ہیں جن میں سے 18 اسکولوں کے پاس اپنی سلیقے کی عمارت تک نہیں ہے۔ ملک میں اب لوگ لڑکیوں کی تعلیم پر زور دے رہے ہیں۔ تصویر: AP۔
عالمی بینک (World Bank) نے یہ بتایا کہ افغانستان میں تقریبا 37 لاکھ بچے اسکول کی پہنچ سے اب بھی دور ہیں۔ تصویر: AP۔
ادارے نے یہ جانکاری دی کہ ملک میں تعلیمی شعبوں میں کافی خرچ کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود تعلیم کا عالم ٹھیک نہیں ہے۔
<br />کوئلے کی کان میں کام کرنے والے ایک افغان کارکن کی بیٹی شمسیہ علی زادہ نے یونیورسٹی میں داخلے کے امتحان میں ٹاپ کر کے قدامت پسند افغان معاشرے میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ شمسیہ اب ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھ رہی ہے۔
افغانستان کے کوئلے کی کان میں کام کرنے والے مزدور کی بیٹی نے ملک کے یونیورسٹی میں داخلے کے امتحان (exam) میں پہہلا مقام حاصل کیا ہے۔ آئی۔ 18 سال کی شمسیہ علی زادہ نے 1 لاکھ 70 ہزار طلباء کو پیچھے چھوڑ کر پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ ۔ فوٹو: فیس بک۔
<br />افغانستان کی وزارت تعلیم کے مطابق 18 سالہ شمسیہ علی زادہ نے کابل یونیورسٹی میں داخلے کے امتحان میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ اس امتحان میں حصہ لینے والے ایک لاکھ ستر ہزار طلبا و طالبات میں وہ اول نمبر پر رہی۔